مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق طے پانے والی مفاہمت کا مطلب آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا نہیں ہے۔
تفصیلات کے مطابق غریب آبادی نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اب بھی جنگی حالت میں ہے۔ حالیہ جنگوں سے قبل آبنائے ہرمز میں کوئی مسئلہ نہیں تھا اور ایران بھی اس آبی گزرگاہ سے متعلق معاملات پر خصوصی توجہ نہیں دیتا تھا، تاہم 40 روزہ جنگ کے بعد آبنائے ہرمز ایران کی اسٹریٹجک توجہ کا مرکز بن گئی اور ایران اب بھی جنگی حالت میں ہے۔
انہوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے راستوں کے بارے میں کہا کہ ایران کو توقع تھی کہ عمانی دوستوں کی مدد سے آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے کو بند کیا جائے گا، تاہم امریکی دباؤ کے باعث ایسا ممکن نہیں ہوسکا اور بالآخر ایران نے آبنائے ہرمز بند کردی، جس کے نتیجے میں جھڑپیں ہوئیں۔
نائب وزیر خارجہ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ایران اور عمان کے درمیان مفاہمت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے مترادف نہیں ہے۔
غریب آبادی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کل سے نہیں کھلے گی۔ انہوں نے نئے بحری راستے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 58 برس سے بحری جہاز عمانی پانیوں کی جانب سے گزر رہے تھے اور اس دوران ایران کو شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ آبنائے ہرمز اب ایران کی قومی سلامتی کا معاملہ ہے اور جہازوں کے داخلے اور اخراج کے راستوں میں بنیادی تبدیلیاں ضروری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مفاہمت کے مطابق خلیج فارس میں داخلے کا راستہ ایرانی پانیوں سے ہوگا، جبکہ باہر نکلنے کا راستہ عمان کے علاقائی پانیوں سے ہوگا، تاہم دونوں سمتوں میں بحری جہاز ایرانی پانیوں سے گزریں گے۔ ان کے بقول یہ راستہ تقریباً 7 میل چوڑی دو طرفہ شاہراہ کی مانند ہوگا۔
غریب آبادی نے کہا کہ یہ راستہ عارضی ہے اور ایران و عمان کو 30 سے 60 روز کے اندر ایک مستقل نئے راستے پر مذاکرات کرنا ہوں گے تاکہ اسے سابقہ بحری ٹریفک نظام کا متبادل بنایا جاسکے۔
نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ مفاہمت کے مطابق کسی بھی فوجی جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور صرف تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔
غریب آبادی نے امریکہ کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے بارے میں کہا کہ حالات تبدیل ہوچکے ہیں اور اگر امریکہ کے ساتھ مذاکرات ہوئے تو وہ ماضی کی طرح نہیں ہوں گے۔
انہوں نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعووں پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کے مقامات سے ایران کے علاوہ کوئی واقف نہیں ہے اور بارودی سرنگوں کی صفائی سے متعلق جو باتیں کی جارہی ہیں وہ محض دعوے ہیں۔
انہوں نے سوال کیا کہ اگر یہ دعوی درست ہے تو پھر کوئی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزر کیوں نہیں رہا؟
غریب آبادی نے امریکہ کی ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ کی پالیسی کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ خود امریکی بھی بارہا اعتراف کرچکے ہیں کہ پابندیاں اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے اپنی پہلی صدارتی مدت میں ایران کے خلاف ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ کی پالیسی اختیار کی، لیکن یہ پالیسی کامیاب نہیں ہوئی۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران اپنی قومی سلامتی اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے پیشگی اقدامات بھی کرسکتا ہے، کیونکہ جنگ میں ایک ملک کے وجود اور اس کی بقا کا معاملہ درپیش ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایران ہمیشہ اس انتظار میں رہے کہ امریکہ اس پر حملہ کرے اور پھر وہ دفاع کرے؟ اگر ایران حالات کو اپنے لیے موزوں نہ سمجھے تو وہ امریکی مفادات کے خلاف اقدامات کیوں نہ کرے؟ ان کے مطابق یہ معاملات اب اسلامی جمہوری ایران کی پالیسی کے دائرے میں شامل ہیں۔
غریب آبادی نے ایران اور عمان کے درمیان بحری جہازوں کے لیے نئے راستے بنانے سے متعلق مذاکرات میں مسلح افواج کی شرکت کے بارے میں کہا کہ یہ مذاکرات ایک مشترکہ ورکنگ گروپ کے تحت کیے جارہے ہیں، جس میں وزارت خارجہ، بندرگاہوں اور بحری امور کی تنظیم، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، اس کی بحریہ اور متعلقہ اسٹاف شعبے، جبکہ مسلح افواج کا جنرل اسٹاف بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ بحری راستوں سے متعلق بنیادی رہنمائی فوجی حکام اور مسلح افواج کی جانب سے کی جارہی ہے، جبکہ مسلح افواج کا جنرل اسٹاف اور سپاہ پاسداران کی بحریہ اس معاملے میں مرکزی کردار ادا کررہے ہیں۔
غریب آبادی نے واضح کیا کہ عمان کے ساتھ جن نقشوں اور راستوں پر بات چیت ہوئی اور جن پر مفاہمت طے پائی، وہ مسلح افواج کی جانب سے پیش کیے گئے نقشے تھے اور تمام متعلقہ ادارے ان پر متفق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان مذاکرات میں تمام متعلقہ ادارے شریک ہیں اور ہونے والی بات چیت کو تمام فریقوں کی حمایت اور اتفاق حاصل ہے۔
غریب آبادی نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ تہران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی حکام نے انہیں بتایا کہ ایران کو امریکہ پر اعتماد نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آرمی چیف سے ملاقات کے دوران واضح کیا گیا کہ اسلام آباد کی مفاہمت کی خلاف ورزی ایران نے نہیں کی، بلکہ امریکہ مذاکرات میں ایک قابلِ اعتماد ملک ثابت نہیں ہوا اور اپنے وعدوں کی پاسداری نہ کرنے کی تاریخ رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے اپنے وعدوں پر عمل درآمد کے معاملے میں بھی ثابت کیا ہے کہ وہ قابلِ اعتماد فریق نہیں ہے۔
غریب آبادی نے کہا کہ اگر امریکہ چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کی جانب کوئی قدم اٹھایا جائے تو اسے ایران کی جانب سے مفاہمت میں پیش کردہ شرائط اور تقاضوں پر عمل کرنا ہوگا۔
آپ کا تبصرہ